غریب شخص تھا ترسا ہوا سو چوم لیا
غریب شخص تھا ترسا ہوا سو چوم لیا
امیر ہونے کی خواہش میں تجھ کو چوم لیا
وہ حسن پوش جدھر تھا ادھر سے آ رہی تھی
پکڑ کے ہم نے گزرتی ہوا کو چوم لیا
میں منکرین ٍ محبت کو کیوں صفائی دوں
وہ میرا اپنا تھا جب مل گیا تو چوم لیا
میں کتنی دیر معطر رہا مزے میں رہا
خیال میں بھی سراپا ترا جو چوم لیا
منافقت کا یہ درجہ نہ جانے کون سا ہے
کسی کو دل میں بسایا کسی کو چوم لیا
وہ شہر بھر کے حسینوں سے خوبصورت تھا
نہیں تھا اس سا کوئی دوسرا سو چوم لیا
راکب مختار

Comments
Post a Comment