رستہ رفتار کی مایوسی سے اٹ جاتا تھا
رستہ رفتار کی مایوسی سے اٹ جاتا تھا
جب میں چپ چاپ تجھے مل کے پلٹ جاتا تھا
تھک کے مرتے ہوئے لوگوں کو میں روتا تھا بہت
ہر پڑاؤ پہ مرا قافلہ گھٹ جاتا تھا
کیا کشش تھی کہ مجھے چھوڑ کے جانے والا
دو قدم چلتا تھا پھر مجھ سے لپٹ جاتا تھا
چاند کی چاندنی شرما کے نکل جاتی تھی
شب کا سورج میرے ہاتھوں میں سمٹ جاتا تھا
شب خسارے کے حسابوں میں گزر جاتی تھی
دن ترے شہر کی دہلیز پہ کٹ جاتا تھا
تیرے آنسو مجھے برچھی کی طرح لگتے تھے
دیکھتے دیکھتے اندر سے میں کٹ جاتا تھا
یار لوگوں کے توسط سے وہ اب غائب ہے
ایک پتھر جو مری راہ سے ہٹ جاتا تھا
راکب مختار
Comments
Post a Comment