آکر لے جائے میری آنکھ کا پانی مجھ سے

آکر لے جائے میری آنکھ کا پانی مجھ سے
کیوں حسد کرتی ہے دریا کی روانی مجھ سے

گوشت ناخن سے الگ کر کے دکھایا میں نے
اس نے پوچھے تھے جدائی کے معنی مجھ سے

تیری خوشبو کی لحد پر میں بڑا تنہا تھا
رو پڑی مل کے گلے رات کی رانی مجھ سے

ختم ہونے لگا جب خون بھی اشکوں کی طرح
کر گئے خواب میرے نقل مکانی مجھ سے

صرف ایک شخص کے غم میں مجھے برباد نا کر
روز روتے ہوئے کہتی ہے  جوانی  مجھ سے

کامران خان

Comments