جو اک پل میں لپیٹے جا رہے تھے
جو اک پل میں لپیٹے جا رہے تھے
وہ برسوں کے مسلسل سلسلے تھے
میں منزل پر پہنچتا کس طرح سے
کئ رستے مر ے پیچھے پڑے تھے
الجھنا آسمانوں سے تھا مجھ کو
زمیں والے مجھے اچھے لگے تھے
اچانک کیا پلٹ کر دیکھتا میں
کسی کی آنکھ میں موتی سجے تھے
خدا جانے یہ بارش کب تھمے گی
مری بستی کے بچے کہہ رہے تھے
سوا نیز ے پہ آ تو جاۓ سورج
میں دیکھوں گا جسے بھی پر لگے تھے
مری آنکھوں کا پانی بہہ گیا تھا
مرے سارے پرندے مر گئے تھے
مجھے ممتاز شب بھر جاگنا تھا
کہ میرے خواب چوری ھو رہے تھے
ممتازگورمانی
Comments
Post a Comment