جسے بار بار ملے تھے تم، وہ میرے سوا کوئی اور تھا
جسے بار بار ملے تھے تم، وہ میرے سوا کوئی اور تھا
مرے دل کو تاب نظر کہاں، تمہیں دیکھتا کوئی اور تھا
گل تازہ یہ ترا رنگ و بو، ہوا سب سے بڑھ کے ترا عدو
کسی اور نے تجھے چن لیا، تجھے چاہتا کوئی اور تھا
سبھی ربط بے سر و پا ہوئے، نہ ملے نہ تجھ سے جدا ہوئے
نہ الگ تھا تیرا جہاں کبھی، نہ مرا خدا کوئی اور تھا
کھلا ہمدموں پہ راز کب کہ میں ایک عمر سے جاں بلب
مجھے روز ملتے تھے لوگ سب مگر آشنا کوئی اور تھا
کبھی روشنی مجھے کی عطا، کبھی سائے ساتھ لگا دیے
کبھی سب چراغ بجھا دیے، وہ تمہی تھے یا کوئی اور تھا
شہزاد احمد

Comments
Post a Comment