خاطر مجروح لیتا ہے مزہ تاثیر کا

خاطرِ مجروح لیتا ہے مزہ تاثیر کا
زخم بھرتا ہی نہیں ان کی نظر کے تیر کا
آب و تابِ آئینہ کم ہو گئی تو کیا ہوا
رفتہ رفتہ رنگ اڑ جاتا ہے ہر تصویر کا
بے خودی میں بھی کیا ضبطِ خودی کا اہتمام
یوں تو اکساتا رہا جذبہ مجھے تقصیر کا
کیا بساطِ بے قراری اور کیا ہستیِ دل
تیری نظروں نے بھرم کھولا مری توقیر کا
کہنے کو تو خم بہ خم حلقہ بہ حلقہ تھی مگر
زلفِ پیچاں نے مجھے دھوکا دیا زنجیر کا
جس کی تابانی سے روشن ہو گئے کون و مکاں
آج میرا دل بھی ہے مرکز اُسی تنویر کا
روز و شب جلتا ہے وہ تو آپ اپنی آگ میں
حالِ نو کیا پوچھتے ہو میکشِؔ دلگیر کا
میکش ناگپوری

Comments