حقائق مسترد ہونے سے پہلے

حقائق مسترد ہونے سے پہلے
چلا جاؤں گا رد ہونے سے پہلے

تجھے مجھ سے تو شکوہ ہی عبث ہے
میں کب تھا نیک، بد ہونے سے پہلے

ازل سے ایک ہی کھٹکا تھا مجھ کو
کروں گا کیا ابد ہونے سے پہلے

تناسب تھا ہماری حرکتوں میں
سبب تھے ہم، وتد ہونے سے پہلے

ہماری حد سے باہر کچھ نہیں تھا
مقرر کوئ حد ہونے سے پہلے

محبت ہم سے پہلے یوں تھی جیسے
روایت مستند ہونے سے پہلے

یہ خوشبو تیرے آنے کا پتہ تھی
بہاروں کے سند ہونے سے پہلے

یہ دنیاحسن کیسے ماپتی تھی؟
تمہارے خال و خد ہونے سے پہلے
ممتاز گورمانی

Comments