آنکھوں میں اعتکاف کا حق بھی نہیں مجھے

آنکھوں میں اعتکاف کا حق بھی نہیں مجھے
کیا خواب کے طواف کا حق بھی نہیں مجھے
کیا مجھ میں ایک دل کا دھڑکنا بھی جرم ہے
کیا عین شین قاف کا حق بھی نہیں مجھے
پاؤں کا ساتھ دیتی نہیں سر زمینِ خاک
اور سیرِ کوہ کاف کا حق بھی نہیں مجھے
میری ہر ایک بات سے ہے اُس کو انحراف
وہ جس سے اختلاف کا حق بھی نہیں مجھے
رکھنا ہے مجھ کو عشق میں ہر لفظ کا خیال
اس بحر میں زحاف کا حق بھی نہیں مجھے
جانے بغیر جرم کے دیتا ہے وہ سزا
مجرم ہوں اعتراف کا حق بھی نہیں مجھے
اشکوں سے بھانپ لیتی ہے یہ خلقِ بے لحاظ
سو غم کے انعطاف کا حق بھی نہیں مجھے
زہرا بتول ہجر کی جاری ہے آب و تاب
اور اس میں ایتلاف کا حق بھی نہیں مجھے
زہراء بتول

Comments