ہو گیا فیصلہ میں نہیں جا رہا
ہو گیا فیصلہ، میں نہیں جا رہا
اب تمہارے بنا، میں نہیں جا رہا
مفت میں ضد کیے جا رہے ہو سبھی
میں نے کہہ تو دیا، میں نہیں جا رہا
سبز بیلیں گلی میں اتر آئی تھیں
دل نے مجھ سے کہا، میں نہیں جا رہا
قافلہ چھوڑ کر جارھا تھا مجھے
میں نے بھی کہہ دیا، میں نہیں جا رہا
راستوں کے اندھیروں سے خائف بھی ہوں
پھر بھی لے کر دیا، میں نہیں جا رہا
میری خاطر سفر اپنا کھوٹا نہ کر
تجھ کو جانا ہے جا، میں نہیں جا رہا
روح سے جسم نے وقتِ رخصت کہا
اپنی گٹھڑی اٹھا، میں نہیں جا رہا
اس سے آگے کا تیرا ھے سارا سفر
خیر ہو دوستا، میں نہیں جا رہا
ممتازگورمانی
Comments
Post a Comment