ہر طرف یہ بکھر گیا مجھ میں
ہر طرف یہ بِکھر گیا مُجھ میں
عشق ہی عشق بھر گیا مُجھ میں
بین سا کیوں ھے یوں مِرے اندر
کیا کوئی شخص مر گیا مُجھ میں
جو خزاں کر سکی نہ گُلشن میں
ہِجر وہ کام کر گیا مُجھ میں
ہر گھڑی موجزن ھے آنکھوں میں
کیا سمندر اُتر گیا مُجھ میں
سوچ کے آئینوں پہ اُترا وہ
عکس اُس کا نِکھر گیا مُجھ میں
مَیں غزلؔ اور وہ کافیے کی طرح
آ سمایا سنور گیا مُجھ میں۔۔۔!
نائمہ غزل
Comments
Post a Comment