امت پہ تری آکے عجب وقت پڑا ہے

اے خاصۂ خاصان رُسُل! وقتِ دعا ہے
امت پہ تری آکے، عجب وقت پڑا ہے

جو تفرقے اقوام ، کے آیا تھا مٹانے
اس دین میں خود تَفرِقہ، اب آ کے پڑا ہے

جس دین نے ،دل آکے تھے غیروں کے ملائے
اس دین میں خود بھائی سے، اب بھائی جدا ہے

جو دین، کہ ہمدردِ بنی نوعِ بشر تھا
اب جنگ و جدل چار طرف، اس میں بپا ہے

جس دین کا تھا ، فَقر بھی اکسیر ، غِنا بھی
اس دین میں اب فقر ہے باقی ، نہ غِنا ہے

جس دین کی حُجّت سے، سب اَدیان تھے مغلوب
اب مُعترض، اُس دین پہ ہر ہرزہ سرا ہے

ہے دین تیرا اب بھی، وہی چشمہ صافی
دیں داروں میں ، پر آب ہے باقی، نہ صَفا ہے

الطاف حسین حالی

Comments