تم نے ہمارے ساتھ یہ اچھا نہیں کیا
وعدہ تو کر لیا مگر ایفا نہیں کیا
تم نے ہمارے ساتھ یہ اچھا نہیں کیا
لوگوں کا اعتبار کیا ہم نے مدتوں
پھر اپنے آپ پر بھی بھروسہ نہیں کیا
شاید شفا نہیں تھی ہمارے نصیب میں
کیا کیا علاج تو نے مسیحیٰ نہیں کیا
سچ بولنے پہ سنگ زنی کر رہے ہیں لوگ
ہم نے کوئی گناہ خدایا نہیں کیا
اپنی شکستِ فاش میں میرا بھی ہاتھ تھا
یہ کارنامہ غیر نے تنہا نہیں کیا
ہم نے بھی ایک عشق کیا تھا کبھی شعور
لیکن اس احتیاط سے، گویا نہیں کیا
انور شعور
Comments
Post a Comment