رکتا بھی نہیں ٹھیک سے چلتا بھی نہیں ہے
رکتا بھی نہیں ٹھیک سے چلتا بھی نہیں ہے
یہ دل کہ تیرے بعد سنبھلتا بھی نہیں ہے
اک عمر سے ہم اس کی تمنا میں ھیں بے خواب
وہ چاند جو آنگن میں اترتا بھی نہیں ہے
پھر دل میں تیری یاد کے منظر ھیں فروزاں
ایسے میں کوئی دیکھنے والا بھی نہیں ہے
ہمراہ بھی خواھش سے نہیں رھتا ھمارے
اور بام رفاقت سے اترتا بھی نہیں ک
ہے
اس عمر کے صحرا سے تری یاد کا بادل
ٹلتا بھی نہیں اور برستا بھی نہیں ہے
نوشی گیلانی

Comments
Post a Comment