مہربانی سے وہ گھر کس کے نہ آیا تنہا
مہربانی سے وہ گھر کس کے نہ آیا تنہا
ہم نے بے مہر کا سایہ بھی نہ پایا تنہا
رات اس خانہ برانداز نے بزم اپنی سے
اور سب بیٹھے رہے، مجھ کو اٹھایا تنہا
بول چال آج تو سن لوگوں کی تو رکھ کر کان
غیر کو رات جو خلوت میں بلایا تنہا
عشق سے تازہ جوانوں کے نہیں ہم کو گریز
پیر اپنے نے یہی پیشہ سکھایا تنہا
جانگذاری پہ مِری بیٹھا رہا باندھے کمر
شب مِرے گھر میں جو وہ شمعِ رخ آیا تنہا
ذبح کیوں کرتا ہے عاشق کو بھلا ناحق تُو
کیا نیا میں نے ہے دل تجھ سے لگایا تنہا
حسرتؔ آرام پہ ہمسایوں کے بھی رحم ہے فرض
عشق بازی نے تجھی کو نہ ستایا تنہا
حسرت عظیم آبادی
Comments
Post a Comment