پھول زمین پر گرا، پھر مجھے نیند آ گئی
پھول زمین پر گرا، پھر مجھے نیند آ گئی
دُور کسی نے کچھ کہا، پھر مجھے نیند آ گئی
ابر کی اوٹ سے کہیں، نرم سی دستکیں ہوئیں
ساتھ ہی کوئی در کھُلا، پھر مجھے نیند آ گئی
رات بہت ہوا چلی، اور شجر بہت ڈرے
میں بھی ذرا ذرا ڈرا، پھر مجھے نیند آ گئی
اور ہی ایک سمت سے، اور ہی اک مقام پر
گرد نے شہر کو چھُوا، پھر مجھے نیند آ گئی
اپنے ہی ایک رُوپ سے، تازہ سخن کے درمیاں
میں کسی بات پر ہنسا، پھر مجھے نیند آ گئی
تُو کہیں آس پاس تھا، وہ ترا التباس تھا
میں اُسے دیکھتا رہا، پھر مجھے نیند آ گئی
ایک عجب فراق سے، ایک عجب وصال تک
اپنے خیال میں چلا، پھر مجھے نیند آ گئی
رئیس فروغ
Comments
Post a Comment