کیا صرف اسی لیے تھا سارا سفر ہمارا
کیا صرف اِسی لیے تھا سارا سفر ہمارا
آدھا شجر تُمھارا، آدھا شجر ہمارا
اندر سے جیسے کوئی خیمہ اُکھڑ گیا ہو
باہر سے خُوبصورت لگتا ہے گھر ہمارا
دَستار چاہتا ہے، تلوار مانگتا ہے
ہر ایک ہاتھ اپنا، ہر ایک سر ہمارا
کچھ بیڑیاں ہیں خالی، کچھ پاؤں بے سَکت سے
فی الحال کیا بتائیں، رُخ ہے کدھر ہمارا
جائے کوئی کہاں تک، کیا سات آسماں تک
اے گرد بادِ ہجرت پیچھا نہ کر ہمارا
سہمی ہُوئی رَفاقت پہروں یہ سوچتی ہے
جو ہاتھ شانہ کش ہے، کھینچے نہ سر ہمارا
کس کام کا یہ جینا، ٹھنڈا پڑا ہے سینہ
آنکھیں لہُو سے خالی، دل بے بَصر ہمارا
لیاقت علی عاصم

Comments
Post a Comment