اک دن میں چھپا ہوا دن اک شب میں کٹی ہوئی شب
اِک دن میں چھُپا ہُوا دِن، اِک شب میں کٹی ہوئی شب
کیا خواب دِکھاتی ہے، اِک خواب سے لی ہوئی شب
ہم دن کی تمنّا کو عِزّت سے کہیں رکھ لیں
بس اتنی جگہ دے دے، اے گھر میں بھری ہوئی شب
بس لطف اُٹھاتے ہیں، سبزے کی عنایت سے
ہم دیکھ نہیں سکتے، شبنم میں چھپی ہوئی شب
ممکن ہے کہ دُھلنے سے، کچھ اور نکھر جائے
دن تو نہیں بن سکتی، بارش میں پڑی ہوئی شب
کاغذ جنھیں چننے ہوں، تحریر نہیں پڑھتے
ردّی بھی نہیں بنتی، قسمت میں لکھی ہوئی شب
باتوں سے بُنیں اِس کو، آنکھوں سے سُنیں اِس کو
پہروں میں نہ ڈھل جائے، لمحوں سے بھری ہوئی شب
جب راہ ملی عادلؔ، اندر بھی گرے آنسو
تنہائی میں کام آئی، مجلس میں کٹی ہوئی شب
ذوالفقار عادل
Comments
Post a Comment