اپنا جب بوجھ مری جان اٹھانا پڑجائے

اپنا جب بوجھ مری جان اٹھانا پڑجائے
دوسروں کا نہ کچھ احسان اٹھانا پڑجائے



 اس قدر عیش محبت پہ نہ ہو خوش کہ تجھے
دوسرے عشق میں نقصان اٹھانا پڑجائے
اس سرائے میں نہ پھیلائیے اجزائے حیات
جانے کس وقت یہ سامان اٹھانا پڑجائے
یوں نہ ہو بول پڑوں میں تری خاموشی پر
اور تجھے بزم سے مہمان اٹھانا پڑجائے
کیا تماشا ہو سر کوچۂ دل دار اگر
میرے جیسا کوئی نادان اٹھانا پڑجائے
میں تو مرجائیں اسی وقت اگر مجھ کو جمال
عشق سے ہاتھ کسی آن اٹھانا پڑجائے
جمال احسانی

Comments