کیا بڑے لوگ ہیں یہ عشق کے مارے ہوئے لوگ
کیا بڑے لوگ ہیں یہ عشق کے مارے ہوۓ لوگ
اپنے اِمروز میں فردا کو گزارے ہوۓ لوگ
تجھ سے بے رُخ ہوۓ جب آئینہ خانے تیرے
کام آۓ ہیں یہی دل کے سنوارے ہوۓ لوگ
سلسلے جوڑتے رہتے ہیں سخن کے کیا کیا
یہ تری چُپ، ترے لہجے کے پکارے ہوۓ لوگ
آج بھی کل کی طرح تیری طلب رکھتے ہیں
پیچ و خم دیدہ، کئی ہجر گزارے ہوۓ لوگ
مڑ کے اک بار ادھر دیکھ تو اے وقت کی رَو
وہی اپنے تھے جو اب شہر کو پیارے ہوۓ لوگ
تھم گیا شور، مگر پوچھ رہی ہے یہ ہوا
غرق دریا میں کہ دریا کے کنارے ہوۓ لوگ
اِس طرف حلقۂ فریاد و فغاں اور ادھر
وہی مسند، وہی مسند سے اتارے ہوۓ لوگ
نہ ملی راہ میں ہمسائیگئ مہر تو کیا
اپنی ہی شعلگئ جاں میں ستارے ہوۓ لوگ
اپنی آغوش میں رکھنا اِنہیں اے صبحِ کمال
اک قبیلے سے ہیں منسوب یہ ہارے ہوۓ لوگ
کوہکن سا نہ ہوا کوئی سرِ وادئ عشق
ویسے سر دینے کو تیار تو سارے ہوۓ لوگ
کیا کہیں تم سے یہ آشفتہ طبیعت اپنی
جو کسی کے نہ ہوۓ تھے وہ تمہارے ہوۓ لوگ
اک نصیؔر اس صفِ حیرت میں نہیں جانِ غزل
"شہر میں سب ترے جادو کے ہیں مارے ہوۓ لوگ"
نصیر ترابی
Comments
Post a Comment