جس پر بھی جوانی آتی ہے اور تھوڑا جمال آجاتا ہے

جس پر بھی جوانی آتی ہے اور تھوڑا جمال آجاتا ہے
مت پوچھو ستم گاری میں اُسے، کس درجہ کمال آجاتا ہے
محفل میں اگر پڑھنے کو غزل عاجؔز کسی سال آجاتا ہے
کچھ تھام کے دل رہ جاتے ہیں ،کچھ لوگوں کو حال آجاتا ہے
ہم بھی نہ کریں کیوں ترکِ وفا اکثر یہ سوال آجاتا ہے
پھر وضع کی بات آجاتی ہے ،غیرت کا سوال آجاتا ہے
اشکوں کے مسافر صف باندھے  ،خاموش گذرنے لگتے ہیں
پھر خواب کہاں ان آنکھوں میں جب اُن کا خیال آجاتا ہے
جب کوئی نیا گل کِھلتا ہے شاعر  کا کلیجہ ہلتا ہے
دنیا کو غزل مل جاتی ہے  اور دل پہ  وبال آجاتا ہے
اب فصلِ بہاراں آئے گی اب فصلِ بہاراں آئے گی
اک سال گذر جاتا ہے یوں ہی ،اور دوسرا سال آجاتا ہے

کلیم عاجز

Comments