اشک کیسے یہ کوئی اور نمی نکلی ہے
اشک کیسے ! یہ کوئی اور نمی نکلی ہے
خوش ہی اتنا ہوں کہ آنکھوں سے ہنسی نکلی ہے
تین حصّوں میں بٹا رہتا ہے اب گھر میرا
تیرے آ جانے سے کب تیری کمی نکلی ہے!
عین ممکن ہے وہیں میرے شب و روز بھی ہوں
شہرِ نا وقت کے ملبے سے گھڑی نکلی ہے
کون آسیب ہے اس خواب سرا کا باسی!
روشنی ، آنکھ سے چلاّتی ہوئی نکلی ہے
خیر میں تو کہیں موجود ہی کب ہوں ، شارق
،رہی ویرانی سو وہ گھر سے ابھی نکلی ہے
سعید شارق
Comments
Post a Comment