لفظ ظرف پر اشعار
رند جو ظرف اٹھا لیں وہی ساغر بن جائے
جس جگہ بیٹھ کے پی لیں وہی میخانہ بنے
اصغر گونڈوی
۔۔۔۔
میں خود زمیں ہوں مگر ظرف آسمان کا ہے
کہ ٹوٹ کر بھی مرا حوصلہ چٹان کا ہے
محسن نقوی
۔۔۔۔
محو یوں ہو گئے الفاظ دعا وقت دعا
ہاتھ سے ظرف طلب چھوٹ گیا ہو جیسے
سالک لکھنوی
۔۔۔۔
تب وتابِ عاشقی ہی تب و تابِ زندگی ہے
کہ بقدر ظرفِ دل ہی ملے سب کو یہ خزانہ
سرور عالم راز سرور
۔۔۔
اتنا کم ظرف نہ بن, اس کے بھی سینے میں ہے دل
اس کا احساس بھی رکھ, اپنی ہی راحت پہ نہ جا
اعتبار ساجد
۔۔۔۔
تم ہمارے خون کی قیمت نہ پوچھو
اس میں اپنے ظرف کا عرصہ رکھا ہے
طاہر عظیم
۔۔۔۔
بقدرِ ظرف ہے ساقی! خمارِ تشنہ کامی بھی
جوتو دریائے مے ہے، تو میں خمیازہ ہوں ساحل کا
غالب
۔۔۔
گہر سمجھا تھا لیکن سنگ نکلا
کسی کا ظرف کتنا تنگ نکلا
اقبال کیفی
۔۔۔۔
نہ جانے ظرف تھا کم یا انا زیادہ تھی
کلاہ سر سے تو قد سے قبا زیادہ تھی
فراز
۔۔۔۔
ظرف ٹوٹا تو وصل ہوتا ہے
دل کوئی ٹوٹا کس طرح جوڑے
شیخ ظہور الدین حاتم
۔۔۔۔
کاغذ پہ اگل رہا ہے نفرت
کم ظرف ادیب ہو گیا ہے
سیف زلفی
۔۔۔۔
کھلی زبان تو ظرف ان کا ہو گیا ظاہر
ہزار بھید چھپا رکھے تھے خموشی میں
انور سدید
۔۔۔۔
کم ظرف کی نیت کیا پگھلا ہوا لوہا ہے
بھر بھر کے چھلکتے ہیں اکثر یہی پیمانے
سراج لکھنوی
۔۔۔۔
کہنے کے لیے ہم بھی زباں رکھتے ہیں لیکن
یہ ظرف ہمارا ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے
صدیق فتح پوری
۔۔۔۔
تالاب تو برسات میں ہو جاتے ہیں کم ظرف
باہر کبھی آپے سے سمندر نہیں ہوتا
اعجاز رحمانی
۔۔۔۔
خدا نے بخشا ہے کیا ظرف موم بتی کو
پگھلتے رہنا مگر ساری رات چپ رہنا
خورشید طلب
۔۔۔۔
فساد روکنے کم ظرف لوگ پہنچے ہیں
گھروں میں رہ گئے روشن ضمیر جتنے تھے
اکمل امام
۔۔۔۔
کہہ رہا ہے شور دریا سے سمندر کا سکوت
جس کا جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے
ناطقؔ لکھنوی
۔۔۔۔
اتنے کم ظرف نہیں ہم جو بہکتے جاویں
مثل گل جاویں جدھر جاویں مہکتے جاویں
دلہن بیگم
۔۔۔۔
کیسے بند ہوا مے خانہ اب معلوم ہوا
پی نہ سکا کم ظرف زمانہ اب معلوم ہوا
حفیظ جالندھری
۔۔۔۔
ہر نظر بس اپنی اپنی روشنی تک جا سکی
ہر کسی نے اپنے اپنے ظرف تک پایا مجھے
۔
شاذ تمکنت
۔۔۔۔
شاعری طلب اپنی شاعری عطا اس کی
حوصلے سے کم مانگا ظرف سے سوا پایا
عبد الاحد ساز
۔۔۔۔
ظرف وضو ہے جام ہے اک خم ہے اک سبو
اک بوریا ہے میں ہوں مری خانقاہ ہے
ریاضؔ خیرآبادی
۔۔۔۔
تھے چور میکدے کے مسجد کے رہنے والے
مے سے بھرا ہوا ہے جو ظرف ہے وضو کا
حفیظ جونپوری
۔۔۔۔۔
جو اعلی ظرف ہوتے ہیں ہمیشہ جھک کے ملتے ہیں
صراحی سرنگوں ہو کر بھرا کرتی ہے پیمانہ
حیدر علی آتش
۔۔۔۔
پارساؤں نے بڑے ظرف کا اظہار کیا
ہم سے پی اور ہمیں رسوا سرِ بازار کیا
عطا شاد
یہ مے کدہ ہے کہ مسجد یہ آب ہے کہ شراب
کوئی بھی ظرف برائے وضو نہیں باقی
ریاضؔ خیرآبادی
۔۔۔۔
کم ظرف زمانے کی حقارت کا گلہ کیا
میں خوش ہوں مرا پیار سمندر کی طرح ہے
اختر امام رضوی
۔۔۔
Comments
Post a Comment