شرابی نہیں تھی وہ آنکھیں کہیں سے
جو پردہ ہٹا مہ جبیں کی جبیں سے
ہوئے ہم تو غافل مکان و مکیں سے
نشہ اس کی آنکھوں میں ویسے بہت تھا
شرابی نہیں تھی وہ آنکھیں کہیں سے
اجازت ملی جب مجھے گفتگو کی
تو پہونچا فلک پہ میں اک دم زمیں سے
محبت کا اظہار کرنا تو چاہا
مگر لانہ پایا وہ ہمت کہیں سے
جو پوچھا کبھی حال دل ان سے میں نے
تو آنسو بہے دیدہ سرمگیں سے
یہی مشورہ ہے مرے یار تم کو
لگانا نہیں دل کسی نازنیں سے
شیزان نقوی
Comments
Post a Comment