کس نے کہا سراب بناتا رہا ہوں میں

کس نے کہا سراب بناتا رہا ہوں میں
روشن دنوں کے خواب بناتا رہا ہوں میں
میری طرف بھی دیکھ کہ ظلمت کے دور میں
ہر شعر آفتاب ،  بناتا رہا ہوں میں
حالانکہ ہر طرف تھا تعفن سماج میں
پھر بھی یہاں گلاب بناتا رہا ہوں میں
میں نے ہی نفرتوں سے محبت کشید کی
یعنی نئی شراب بناتا رہا ہوں میں
جن کی ہر ایک تان سروں کا جہان تھی
ایسے بھی کچھ رباب بناتا رہا ہوں میں
ہر ایک سَطر تیری تمنا کی نذر ہے
ہر لفظ انتساب بناتا رہا ہوں میں
خالد ندیم شانی

Comments