میری دیوار سے ویرانی کے ٹکرانے سے

میری دیوار سے ویرانی کے ٹکرانے سے
کیسا دروازہ کُھلا اینٹیں اُکھڑ جانے سے!
ایک شب گُم ہُوا آنکھوں سے کوئی خواب مرا
اور پھر لاش ملی سینے کے ویرانے سے
زندگی یوں بھی کم و بیش مجھے چاٹ چکی
سیر کیا ہو گا ترا ہجر، مجھے کھانے سے!
ایک بُھولی ہوئی بوسیدہ محبت کے سوا
ہاتھ کچھ آ نہ سکا  یاد کے تہہ خانے سے
تری تنہائی گئی، پھر مری تنہائی گئی
کتنا نقصان ہوا مجھ کو ترے آنے سے!
رنج تو یہ ہے کہ تُو یاد نہ ہو پایا اور
بُھول بیٹھا ہوں مَیں سب کچھ تجھے دہرانے سے
مَیں کہ پتھر تھا مگر ہو گیا کرچی کرچی
اور ہوتا بھی تو کیا، آئنہ کہلانے سے
اب کسی ضرب میں وہ پہلے سا دم خم ہی نہیں



 ہاتھ اُٹھالے نہ کہیں تُو  بھی مجھے ڈھانے سے
کھینچتے کھینچتے تھک جاتے ہیں بازو،شارق
چادرِ رنج سرکتی ہی نہیں شانے  سے
سعید شارق

Comments