نہیں شوق اس کے دل میں کدھین لالہ زار کا

نہیں شوق اُس کے دل میں کدھین لالہ زار کا
مشتاق ہے جو پیو کے رُخ آب دار کا
لگتا ہے مجھ کوں پنجۂ خورشید رعشہ دار
دیکھا ہے جب سوں دست نگاریں نگار کا
ہر ذرہ اُس کی چشم میں لبریز نور ہے
دیکھا ہے جن نے حسن تجلّی بہار کا
طاقت نئیں کسی کوں کہ یک حرف سُن سکے
احوال گر کہوں میں دل بے قرار کا
آوے ولیؔ ہماری طرف، تیغ ناز لے
اُس شوخ کوں خیال اگر ہے شکار کا
ولی دکنی

Comments