رات گزری نہ کم ستارے ہوئے
رات گزری،نہ کم ستارے ہوئے
منکشِف ہم پہ ہجر سارے ہوئے
ناؤ دو لخت ہوگئی، اِک دن
دو مسافر تھے، دو کنارے ہوئے
پھول دلدل میں کِھل رہا ہے یہاں
ہم ہیں اِک جسم پر اتارے ہوئے
جانے کس وقت نیند آئی ہمیں
جانے کس وقت ہم تمھارے ہوئے
مُدّتوں بعد کام آئے ہیں
چند لمحے کہیں گزارے ہوئے
اپنی چھت پر اُداس بیٹھے ہیں
ہم پرندوں کا روپ دھارے ہوئے
ذوالفقار عادل
Comments
Post a Comment