چاہے دنیائیں بسا چاہے خلا سے بھر دے

چاہے دُنیائیں بسا ، چاہے خلا سے بھر دے
مَیں بھرا بیٹھا ہوں خود سے ، مجھے خالی کر دے!
وقت کے ساتھ کڑا ہو چکا معیار مرا
سو مجھے رنج بھی پہلے سے کہیں بہتر  دے



 کان کہتے ہیں : ہمیں چاہیے تازہ آواز
آنکھیں ضد کرتی ہیں:اب ہم کو نیا منظر دے
تان لیتا ہوں اچانک ہی مَیں خنجر خود پر
اور کہتا ہوں: مجھے میرے حوالے کر  دے!
میں کہیں اڑ نہ سکوں اس کے دریچے کے سوا
کاٹ کر کہنہ پروں کو، مجھے ایسے پر، دے
پھوڑ ہی لوں گا بہرحال مَیں اپنے سر کو
پُھول دے تُو مرے ہاتھوں میں بھلے پتھر دے
ہاں! فسردہ ہوں ، تجھے کہہ تو دیا، لکھ دوں کیا؟
کاپیاں بانٹ، خبر دینی ہے تو گھر گھر دے!
مجھے بہرہ ہی نہ کر دے یہ سوالات کا شور
جو بھی دینا ہے جواب، آج ، ابھی ، فرفر،  دے!
میں بھی دیکھوں کسی دستک کے خد وخال کبھی
ہو سکے تو مجھے کچھ دیر کو اپنا در  دے
یہ الگ بات کہ سینے میں وہی حبس رہا
کھڑکیاں کھُلتے ہی لہرانے لگے تھے  پردے
سعید شارق

Comments