سچ بول کے بچنے کی روایت نہیں کوئی
سچ بول کے بچنے کی روایت نہیں کوئی
اور مجھ کو شہادت کی ضرورت نہیں کوئی
میں رزق کی آواز پہ لبیک کہوں گا
ہاں مجھ کو زمینوں سے محبت نہیں کوئی
میرے بھی کئی خواب تھے میرے بھی کئی عزم
حالات سے انکار کی صورت نہیں کوئی
ہر شام ہی آتاہے کسی چاند کاپیغام
لیکن شبِ مہتاب کی حاجت نہیں کوئی
میں جس کے لیے سارے زمانے سے خفاتھا
اب یوں ہے کہ اس نام سے نسبت نہیں کوئی
لہجہ ہے مراتلخ مرے وار ہیں بھر پور
لیکن مرے سینے میں کدورت نہیں کوئی
اسعد بدایونی

Comments
Post a Comment