وہ کیا لکھتا جسے انکار کرتے بھی حجاب آیا

وہ کیا لکھتا جسے انکار کرتے بھی حجاب آیا
جوابِ خط نہیں آیا، تو یہ سمجھو  جواب آیا
قَرِیبِ صُبح، یہ کہہ کر اَجل نے آنکھ جھپکادی!
ارے او ہجر کے مارے! تُجھے اب تک نہ خواب آیا
دِل اُس آواز کے صدقے یہ مُشکِل میں کہا کِس نے
نہ گھبرانا، نہ گھبرانا، مَیں آیا اور شتاب آیا
پُرانے عہد ٹُوٹے، ہوگئے پیماں نئے قائم
بنادی اُس نے، دُنیا دُوسری جو اِنقلاب آیا
گُزرگاہِ محبّت بن گئی اِک مُستقِل بستی
لگا کر آگ آیاگھر کو، جو خانہ خراب آیا
مُعمّہ بن گیا رازِ محبّت آرزُوؔ یُوں ہی
وہ مُجھ سے پُوچھتے جِھجکے، مُجھے کہتے حجاب آیا
آرزُوؔ لکھنوی

Comments