جس کے لئے مچل سکوں ایسا نشہ نہیں ہے تو

جس کے لئے مچل سکوں، ایسا نشہ نہیں ہے تو
کیسے میں پُر کروں تجھے؟ میرا خلا نہیں ہے تو
رنج ملے تو رو کبھی، دل سے یہ میل دھو کبھی
اپنا سکوت ختم کر، کوئی خدا نہیں ہے تو
جن سے تو مل رہا ہے نا! اُن کو تری خبر کہاں!
تیرا پتہ تو اُس کو ہے، جس کو ملا نہیں ہے تُو
نام خدا پہ مفتیا، شہر کے شہر کھا گیا
کچھ تو خدا کا خوف کر۔ یعنی تھکا نہیں ہے تو

Comments