وحدت ذات کی تبلیغ سراپا تم ہو

وحدتِ ذات کی تبلیغِ سراپا تم ہو
جِس کی ہر لہر ہے توحِید، وہ دریا تُم ہو
مَیں کسی اور سے کیا عرضِ تمنّا کرتا
میرے مالِک، مِرے مولا، مِرے آقا تُم ہو
ایک اِک بات زمانے پہ اَثر کرتی ہے



  
حق کی آواز ہو، اللہ کا لہجہ تُم ہو
کوئی ثانی ہے تُمھارا ، نہ خُدا کا ہے شریک
جیسے یکتا ہے خُدا، ویسے ہی یکتا تُم ہو
نعت گوئی میں فَرِشتوں نے سُنا تھا مِرا نام
حشر میں، دیکھ کےمُجھ کوکہا! اچّھا تُم  ہو
جو کہا تُم نےزباں سےوہی تسلِیم کِیا!
اصل میں، مذہب و اِیمان صَبا ؔ کا ، تُم ہو
صباؔ اکبر آبادی

Comments