جب چاہو تقدیر پہ غصہ ہو جاؤ
جب چاہو تقدیر پہ غصہ ہو جاؤ
ہوتے ہو ناراض ،تو اچھا،ہو جاؤ
ٹھیک یہیں پر میری نظریں رکتی ہیں
سامنے والے طاق کا شیشہ ہو جاؤ
اپنی مرضی کر کے واپس آؤں گی
تم اتنے میں آگ بگولہ ہو جاؤ
یہ حالات زمیں کا نقشہ بدلیں گے
ان حالات کا آنکھوں دیکھا ہو جاؤ
اتنا طے ہے ساتھ کہیں لے جاۓ گا
اس دریا کے ساتھ روانہ ہو جاؤ
رٹا مار کے اک دن تم کو پڑھ لونگی
کوئی بھی آسان پہاڑہ ہو جاؤ
ورنہ یہ آسانی مشکل کر دےگی
خوابوں کا پیچیدہ رستہ ہو جاؤ
زہرا قرار
Comments
Post a Comment