خنجر کی طرح بوئے سمن تیز بہت ہے

خنجر کی طرح بوئے سمن تیز بہت ہے
موسم کی ہوا  اب کے جنوں خیز بہت ہے
راس آئے تو ، ہر سر پہ بہت چھاؤں گھنی ہے
ہاتھ آئے ، تو ہر شاخ ثمر بیز بہت ہے
لوگو مِری گُل کارئ وحشت کا صِلہ کیا
دِیوانے کو اِک حرفِ دِلآویز بہت ہے
مُنعَم کی طرح ، پیرِ حَرَم پیتے ہیں وہ جام !
رِندوں کو بھی جِس جام سے پرہیز بہت ہے
مصلُوب ہُوا کوئی سَرِ راہِ تمنّا
آوازِ جَرَس پِچھلے پَہر تیز بہت ہے
مجرُوحؔ سُنے کوئی تِری تلخ نَوائی
گُفتارِ عَزِیزاں شکر آمیز بہت ہے
مجرُوح سُلطان پُوری

Comments