دل بلا سے نثار ہو جائے
دِل بَلا سے نِثار ہو جائے
آپ کو اعتبار ہو جائے
قہر تو بار بار ہوتا ہے
لُطف بھی ایک بار ہوجائے
زندگی چارہ سازِ غم نہ سہی
موت ہی غمگُسار ہو جائے
یا خِزاں جائے اور بہار آئے !
یا، خزاں ہی بہار ہو جائے
دِل پہ، مانا کہ اِختیار نہیں
اور اگر اِختیار ہو جائے
چراغ حَسن حسرتؔ
Comments
Post a Comment