نہ کسی اسم نہ منتر سے نہ جادو سے ہوئی

نہ کسی اسم نہ منتر سے نہ جادو سے ہوئی
بادِ محبوس روانہ تری خوشبو سے ہوئی
اے سمندر! مجھے نا چیز سمجھنے والے
تری تفہیم ہوئی تو مرے آنسو سے ہوئی



اے خدا! مجھ کو بھی نسبت ہے تری دنیا سے
وہی نسبت کہ جو درویش کو بچھو سے ہوئی
زلزلے آئیں گے ترتیب و توازن کے لئے
بر سرِ خاک اگر بھول ترازو سے ہوئی
ورنہ میں دشت میں استاد کہاں سے لاتا
شکر کرتا ہوں وحشت رمِ آہو سے ہوئی
یا مری پیاس کو اک بوند سے تسکین ملی
یا شبِ تار میں کچھ روشنی جگنو سے ہوئی
پھول تصویر ہوا تو مرے لہجے ہوا
تیغ ایجاد ہوئی تو مرے بازو سے ہوئی
سائبانوں نے مجھے گھیر کے مارا شاہدؔ
جب مری دوستی جھلساتی ہوئی لو سے ہوئی

شاہد ذکی

Comments