باغ کا باغ اجڑ گیا کوئی کہو پکار کر
باغ کا باغ اُجڑ گیا، کوئی کہو پُکار کر
کِس نے شفق پہ مَل دیے پُھولوں کے رنگ اُتار کر
شام کو موجہء ہَوا، جانبِ دَشت لے اُڑے
صُبح چمن میں آ گئے، خاک پہ شب گُزار کر
سایہء آفتاب میں بَرگ و شرر ٹھٹھر گئے
برف کہاں سے آ گئی دُھوپ کا رُوپ دھار کر
پاس ہی منزلِ مُراد خاک میں تھی چُھپی ہُوئی
راہ میں پا بُریدہ لوگ بیٹھ چُکے تھے ہار کر
آج تِرے خیال سے دل کو بہت سکُوں مِلا
ڈوُب چَلی یہ موج بھی مُجھ کو اُبھار اُبھار کر
جلوہء ماہتاب بھی شُعبدہء خیال ہے
رات کے پاس کُچھ نہیں، صُبح کا انتظار کر
ولولہء حیات کے دل میں کئی چراغ تھے
وقت نے سب بُجھا دیے ایک ہی پُھونک مار کر
شہزاد احمد

Comments
Post a Comment