جس کو چکھا نہیں کبھی اس کا مزا ہی اور ہے
جس کو چکھا نہیں کبھی اس کا مزا ہی اور ہے
آپ بہشت مانگیے، میری دعا ہی اور ہے
مانا کہ شش جہات پر، اس کی ہیں سائبانیاں
مجھ کو کہیں نہیں اماں، میری خطا ہی اور ہے
ایسا مرض ملا مجھے، جس کا نہیں کوئی طبیب
جاۓ کہاں دل غریب، اس کی دوا ہی اور ہے
میرا نصیب دیکھیے، مر کے بھی نہیں مر سکا
دست قضا سے خوف کیا، میری قضا ہی اور ہے
ویسے تو لوگ سب کے سب، مانتے ہیں اسی کو رب
ان کی گواہی اور ہے، میری گواہی اور ہے
یونہی برہنہ سر نہ پھر، شہر میں چادریں بہت
جو ترے دل کو ڈھانپ لے، پھر وہ ردا ہی اور ہے
اس قدر آگیا ہے فرق، سائے میں روشنی ہے غرق
بزم اداس کیوں نہ ہو، آج دیا ہی اور ہے
شہزاد احمد

Comments
Post a Comment