کیا ابر سر دشت کوئی چھایا ہوا تھا

کیا اَبر سَرِ دَشت کوئی چھایا ہوا تھا
یا ذہن پہ اِک سایہ سا لہرایا ہوا تھا



 اب بے حسیء شوق نے شَل کر دِیے بازو
خوُں موجہء احساس نے گرمایا ہوا تھا
مطلُوب ہے کیا؟ اب یہی کہتے نہیں بنتی
دامن تو بڑے شوق سے پھیلایا ہوا تھا
کیونکر تِری پَلکوں کے اِشاروں کو سمجھتا
دل اپنے تقاضوں سے بھی گھبرایا ہوا تھا
بُھولے نہیں آنکھوں کے چَمکتے ہوئے آنسُو
وہ رات کو جب چاند بھی کجلایا ہوا تھا
شہزاد احمد

Comments