کچھ نہ کچھ ہو تو سہی انجمن آرائی کو
کچھ نہ کچھ ہو تو سہی انجمن آرائی کو
اپنے ہی خوں سے فروزاں کو تنہائی کو
اب یہ عالم ہے کہ بیتی ہوئی برساتوں کی
اپنے ہی جسم سے بُو آتی ہے سودائی کو
پاس پہنچے تو بکھر جائے گاافسوں سارا
دُور ہی دُور سے سنتے رہو شہنائی کو
کسی زنداں کی طرف آج ہوا کے جھونکے
پا بہ زنجیر لیے جاتے ہیں سودائی کو
کس میں طاقت ہے کہ گلشن میں مقید کر لے
اس قدر دور سے آئی ہو ئی پُروائی کو
وہ دہکتا ہوا پیکر وہ اچھوتی رنگت
چُوم لے جیسے کوئی لالہء صحرائی کو
بہت آزردہ ہو شہزادؔ تو کھل کر رو لو
ہجر کی رات ہے چھوڑو بھی شکیبائی کو
شہزاد احمد
Comments
Post a Comment