جھیل
جھیل
بدلی مسرتوں کی ہر سو برس رہی ہے
اک خوابناک وادی آنکھوں میں بس رہی ہے
وادی کی گود میں یوں اک جھیل سو رہی ہے
خود چاندی سمٹ کر آغوش ہو گئی ہے
صہبائے ارغواں کا ساغر چھلک گیا ہے
چشمِ نگار سے اک آنسو ڈھلک گیا ہے
کس شرمگیں نگہ سے مسحور ہو گئی ہے
مسحور ہوگئی ہے، مغرور ہو گئی ہے
کیفِ شراب میں ہے ڈوبا ہوا نظارا
کھوئی ہوئی نظر میں کھویا ہوا نظارا
برنائیاں نچھاور عکسِ مہِ جواں پر
اک چاند ہے زمیں پر اک چاند آسماں پر
ہو ہو کے مست و بیخود نذریں چھڑھا رہی ہے
شبنم کی شاہزادی موتی لٹا رہی ہے
تاروں کا عکسِ دلکش ہے سطحِ مرمریں پر
افشاں چنی ہوئی ہے پیشانیٔ حسیں پر
محوِ خرامِ نازک ِ دو شیزہ ٔ صبا ہے
سبزے کی جنبشوں میں اک دل دھڑک رہا ہے
لہروں کی سلوٹوں میں کچھ پھول کانپتے ہیں
بستر جو پُر شکن ہے پہلو بدل رہے ہیں
لرزاں ہے کس لیے یوں؟ ہے کیوں شکن جبیں پر؟
کیا یاد آ رہا ہے؟ کیوں ہو رہی ہے مضطر؟
کیوں دل دھڑک رہا ہے؟ یوں بیقرار کیوں ہے؟
سوئے فلک نگاہِ حیرت شعار کیوں ہے
امید کا گھروندا پل میں گرا دیا ہے!
تجھ کو بھی کیا کسی نے دل سے بھُلا دیا ہے؟
ادا جعفری
Comments
Post a Comment