بتائیں اور کروں کیا خراب میں اس کو
بتائیں اور کروں کیا خراب میں اس کو ؟
کہ ٹھیک لگنے لگا ہوں جناب! میں، اس کو
میں ایک پیڑ تلے بیٹھتا ہوں ،روتا ہوں
وہ چھاؤں دیتا ہے مجھ کو اور آب میں اس کو
ندی میں دیکھتا خود کو وہ، اور دیکھتے تھے
درخت، گھاس، پرندے ،گلاب ،میں ،اس کو
وہ چاہتا ہے کہ ناکام ہو محبت میں
نہ ہونے دوں گا کبھی کامیاب میں اس کو
شبیں تو نیند سے عاری تھیں دونوں کی، لیکن
وہ روز مجھ کو سناتا تھا خواب، میں اس کو
دیا نہ وقت تک اس کو سوال کرنے کا
سمجھ رہا تھا کہ دوں گا جواب میں اس کو
وہ گروی رکھ بھی چکا دو تہائی، جبکہ عمیر!
ہوا نہیں ہوں ابھی دستیاب میں اس کو
عمیر نجمی

Comments
Post a Comment