آگے تھے ہم سے راہ عدم میں نہیں رہے
آگے تھے ہم سے راہِ عدم میں، نہیں رہے
جانے وہ سب کہاں ہیں جو ہم میں نہیں رہے
کچھ ہو گئے تھے تیری خوشی کے لئے فنا
جو رہ گئے تھے وہ، ترے غم میں، نہیں رہے!
ہم بھی رہے ہیں دشتِ سخن میں کئی برس
لیکن تلاشِ نقشِ قدم میں نہیں رہے
صحرانورد! آ کے ہمارا مکاں بھی دیکھ
ہم بھی کسی خرابے سے کم میں نہیں رہے
جھڑتے چلے گئے مری پلکوں کے سارے بال
خشکی کے پیڑ خطہِ نم میں نہیں رہے
حیران کیوں ہو دیکھ کے پوریں مٹی ہوئی؟
پہلے کبھی تم اہلِ قلم میں نہیں رہے؟
تم اس کے دل میں رہ نہ سکے، پاس رہ کے بھی
مکّی ہو اور صحنِ حرم میں نہیں رہے؟
عمیر نجمی

Comments
Post a Comment