مے کدے کا نظام تم سے ہے
مے کدے کا نظام تم سے ہے
شیشہ تم سے ہے جام تم سے ہے
صبح تم سے ہے شام تم سے ہے
ہر طرح کا نظام تم سے ہے
سب کو سوز و گداز تم نے دیا
عشق کا فیضِ عام تم سے ہے
میں زمانے کے رو برو چپ ہوں
بے تکلف کلام تم سے ہے
خالِ مشکیں بھی، زلفِ پیچاں بھی
دانہ تم سے ہے، دام تم سے ہے
مہرِ انور میں ہے تمہاری ضیا
حسنِ ماہِ تمام تم سے ہے
تم ہو بنیاد دونوں عالم کی
دو جہاں کا قیام تم سے ہے
ہم تمہارے ہیں، تم ہمارے ہو
ہم کو عشقِ دوام تم سے ہے
اب کسی کو نصیرؔ کیا جانے
اب تو جو کچھ ہے کام تم سے ہے
سید نصیر الدین نصیرؔ
Comments
Post a Comment