ستارے کا راز رکھ لیا مہمان میں نے

ستارے کا راز رکھ لیا مہمان میں نے
اک اجلے خواب اور آنکھ کے درمیان میں نے
چڑھا ہے جب چاند آسماں پر تو بوجھ اترا
سنادی ہر سونے والے کو داستان میں نے
تمام شیشہ بدست حیرت میں گم ہوئے ہیں
چراغ سے کاٹ دی ہوا کی چٹان میں نے
میں دھوپ میں کیوں کسی کا احسان مند ہوتا
خود اپنے سائے کو کرلیا سائبان میں نے



 جمال ہر شہر سے ہے پیارا وہ شہر مجھ کو
جہاں سے دیکھا تھا پہلی بار آسمان میں نے
جمال احسانی

Comments