خدا کے واسطے دل کی لگی کا حال نہ پوچھ
خدا کے واسطے دل کی لگی کا حال نہ پوچھ
میں بے خودی میں ہوں میری خودی کا حال نہ پوچھ
تری تلاش، تری جستجو میں رہتا ہوں
مرے ندیم مری زندگی کا حال نہ پوچھ
وہ دَورِ ماضی بہت خوب دَور تھا لیکن
اب حالِ نو کی ستم پروری کا حال نہ پوچھ
کسی کا کوئی بھی پُرساں نہیں زمانے میں
اب آدمی سے دلِ آدمی کا حال نہ پوچھ
نہ جانے کتنوں کے ارمان لٹ گئے اے دوست
مریضِ ہجر سے ان کی گلی کا حال نہ پوچھ
چڑھا رہا ہوں مگر تشنگی نہیں جاتی
میں تشنہ لب ہوں مری تشنگی کا حال نہ پوچھ
غموں کا ذکر کروں یہ بھی نامناسب ہے
خوشی کی بات تو یہ ہے خوشی کا حال نہ پوچھ
میکش ناگپوری
Comments
Post a Comment