چائے کے رنگ سا لگے گا داغ
دودھیا گال پر جچے گا داغ
چائے کے رنگ سا لگے گا داغ
ہجر پر ہجر کا اثر کیسا
داغ پر اور کیا بنے گا داغ
یہ ثمر کا نہیں شجر کا ہے
کئ پشتوں تلک چلے گا داغ
یار! سورج کو اس طرح مت دیکھ
ہوگا بھی تو کہاں دِکھے گا داغ
چھینٹ اڑاؤ گے تم ہماری طرف
اور کہیں کا کہیں پڑے گا داغ
پارس مزاری
Comments
Post a Comment