اب اور یہ دل کس کا طلبگار بنے گا
اب اور یہ دل کس کا طلبگار بنے گا
ہے ایک پری جس سے پریوار بنے گا
تقدیس الگ چیز تصنع ہے الگ شے
تسبیح کے دانوں سے نہیں ہار بنے گا
سانسوں کیلیے صحن میں اک پیڑ لگاؤ
دیوار سے بس سایہءِ دیوار بنے گا
دورانِ سخن زیبِ تخیل ہو اگر تو
ہر شعر ہی تہہ دار پرت دار بنے گا
نہروں کی طرف اپنی ہی طغیانی تلک ہے
دریا ہے سمندر کا طرفدار بنے گا
کیڑوں کے نہیں بس کی یہ پیغام رسانی
طائر ہی کوئ قاصدِ اشجار بنے گا
پارس مزاری
Comments
Post a Comment