دیکھی نہیں سقراط نے دانائی ہماری

دیکھی نہیں سقراط نے دانائی ہماری
ورنہ اسے واجب تھی پذیرائی ہماری
وحشت لیے پھرتی ہے ہمیں قریہ بہ قریہ
سنبھلے سے سنبھلتی نہیں تنہائی ہماری
ٹھوکر پہ رکھا ہم نے کچھ اس طور زمانہ
شاہوں کو کھٹکنے لگی دارائی ہماری
اس واسطے دنیا میں چلے آئے تھے ہم لوگ
دکھ درد سے ہونا تھی شناسائی ہماری
اک یار نے سمجھا ہے اگر سمجھا ہے ہم کو
دنیا کو تو پھر بھی نہ سمجھ آئی ہماری
اک شعر ہی لکھّا تھا کہ سب اہلِ سخن کو
چبھنے ہی لگی قافیہ پیمائی ہماری
قرطاس پہ کچھ سادہ سے الفاظ لکھے تھے
الفاظ میں تصویر نظر آئی ہماری
افتخار حیدر

Comments