ایسا نہ سمجھ خواب وسیلہ نہیں بنتے

ایسا نہ سمجھ، خواب وسیلہ نہیں بنتے
کیا ریت کی بنیاد پہ دریا نہیں بنتے
یوں ہی تو نہیں ہم کو شکست اپنی مقدم
جو ٹوٹ نہ پائیں، وہ دوبارہ نہیں بنتے
سنجیدہ پذیرائی کا دکھ کیوں نہیں ہو گا
ہم مسخرے تیرے  لیے کیا کیا نہیں بنتے
جتنی بھی ہو بھرپور مشینوں کی مہارت
کچھ ذائقے ہاتھوں کے علاوہ نہیں بنتے
وہ شخص تو پھر ریشمی پوشاک میں آیا
جنگل تو ہواؤں کا بھی رستہ نہیں بنتے

اظہر فراغ

Comments